رات کے درد کا مارا نکلا
چاند بھی پارہ پارہ نکلا
آپ سمندر کی کہتے ہیں
دریا تک تو کھارا نکلا
اوبا دنیا کی ہر شے سے
دل آخر بنجارہ نکلا
سورج کے آنے تک چمکا
باغی ایک ستارہ نکلا
آگ نہ درباروں تک پہنچی
مخبر ایک شرارہ نکلا
جو سمجھا تھا خود کو ناظر
وہ بھی ایک نظارہ نکلا
پلٹے دل کے صفحے سارے
سب پر نام تمہارا نکلا

غزل
رات کے درد کا مارا نکلا
منیش شکلا