EN हिंदी
رات کے درد کا مارا نکلا | شیح شیری
raat ke dard ka mara nikla

غزل

رات کے درد کا مارا نکلا

منیش شکلا

;

رات کے درد کا مارا نکلا
چاند بھی پارہ پارہ نکلا

آپ سمندر کی کہتے ہیں
دریا تک تو کھارا نکلا

اوبا دنیا کی ہر شے سے
دل آخر بنجارہ نکلا

سورج کے آنے تک چمکا
باغی ایک ستارہ نکلا

آگ نہ درباروں تک پہنچی
مخبر ایک شرارہ نکلا

جو سمجھا تھا خود کو ناظر
وہ بھی ایک نظارہ نکلا

پلٹے دل کے صفحے سارے
سب پر نام تمہارا نکلا