EN हिंदी
رات ہوئی پھر ہم سے اک نادانی تھوڑی سی | شیح شیری
raat hui phir humse ek nadani thoDi si

غزل

رات ہوئی پھر ہم سے اک نادانی تھوڑی سی

صدیق مجیبی

;

رات ہوئی پھر ہم سے اک نادانی تھوڑی سی
دل سرکش تھا کر بیٹھا من مانی تھوڑی سی

تھوڑی سی سرشاری نے دی گہری دھند میں راہ
بہم ہوئی آنکھوں کو تب آسانی تھوڑی سی

بچھڑا وہ تو لوٹ آنے کی راہ نہ کھوٹی کی
کنج میں دل کے چھوڑ گیا ویرانی تھوڑی سی

یارب پھر سے بھیج طلسم ہوش ربا کوئی
وقت عطا کر پھر ہم کو حیرانی تھوڑی سی

ہم ایسے بے مایہ کب تھے ہاتھوں ہاتھ بکیں
بازاروں تک لے آئی ارزانی تھوڑی سی

نئی غزل کا روپ نیا ہو لیکن ایسا ہو
غزلوں میں ہو آئینہ سامانی تھوڑی سی

اس کے چال چلن پر مت جا یار مجیبیؔ تو
یوں بھی جوانی ہوتی ہے دیوانی تھوڑی سی