EN हिंदी
رات ہے شہر بتاں ہے اور ہم | شیح شیری
raat hai shahr-e-butan hai aur hum

غزل

رات ہے شہر بتاں ہے اور ہم

شاہد عشقی

;

رات ہے شہر بتاں ہے اور ہم
آرزوئے بے کراں ہے اور ہم

کون گزرا ہے سر راہ خیال
دور تک اک کہکشاں ہے اور ہم

رات کی ڈھلتی جوانی کے رفیق
صرف اک پیر مغاں ہے اور ہم

بجھ چلے ہیں سارے یاروں کے چراغ
اب چراغوں کا دھواں ہے اور ہم

ہر زمانے میں ملی حق کو صلیب
یہ قمیص خوں چکاں ہے اور ہم

بے ستوں تقدیر ہر فرہاد ہے
اک مذاق خسرواں ہے اور ہم

جس میں جرأت ہو وہ مڑ کر دیکھ لے
ایک عمر رائیگاں ہے اور ہم