EN हिंदी
رات بھی ہم نے رو رو کاٹی دن بھی سو کے خراب کیا | شیح شیری
raat bhi humne ro-ro kaTi din bhi so ke KHarab kiya

غزل

رات بھی ہم نے رو رو کاٹی دن بھی سو کے خراب کیا

کاوش بدری

;

رات بھی ہم نے رو رو کاٹی دن بھی سو کے خراب کیا
کھلنے والی آنکھوں کو بھی عمداً محو خواب کیا

ایک ہی روٹی کو دھو دھو کر پیتے رہے ہم شام و سحر
ساری عمر میں شاید ہم نے ایک ہی کار ثواب کیا

رزق تو ہے مقسوم ہمارا اس کو دعا کی حاجت کیوں
ڈھانک کے چہرہ دست دعا سے ہم نے خود سے خطاب کیا

اس کی نظر سے تیر جو نکلا ٹھیک نشانے پر بیٹھا
گھائل آہو بن کر ہم نے بن بن کو شاداب کیا

اشک بہا دینے کے ہنر میں ثانی اس کا کوئی نہیں
اک دن ہنستے ہنستے اس نے سب کو تہہ سیلاب کیا

بچپن میں دیکھا تھا ہم نے ماں کا چہرہ یاد نہیں
بوعلی سینا بن کر ہم نے اس کے رخ کو کتاب کیا