EN हिंदी
رات بھر خواب میں جلنا بھی اک بیماری ہے | شیح شیری
raat-bhar KHwab mein jalna bhi ek bimari hai

غزل

رات بھر خواب میں جلنا بھی اک بیماری ہے

امت شرما میت

;

رات بھر خواب میں جلنا بھی اک بیماری ہے
عشق کی آگ سے بچنے میں سمجھ داری ہے

وقت ملتا ہی نہیں ہے مجھے تنہائی سے
جنگ خود سے ہی مری آج تلک جاری ہے

آئنے گھر کے سبھی ٹوٹ چکے ہیں کب کے
روبرو خود سے ہی ہونا بھی مجھے بھاری ہے

میری یہ بات تو مانے یا نہ مانے لیکن
بن ترے دنیا میں جینا بھی اداکاری ہے

درد تنہائی تڑپ اشک محبت یاری
میتؔ ان سب میں ہی اس غم کی طرف داری ہے