EN हिंदी
رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرح | شیح شیری
raat bhar gardish thi un ke pasbanon ki tarah

غزل

رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرح

بیخود دہلوی

;

رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرح
پانو میں چکر تھا میرے آسمانوں کی طرح

دل میں ہیں لیکن انہیں دل سے غرض مطلب نہیں
اپنے گھر میں رہتے ہیں وہ مہمانوں کی طرح

دل کے دینے کا کہیں چرچا نہ کرنا دیکھنا
لے کے دل سمجھا رہے ہیں مہربانوں کی طرح

نام پر مرنے کے مرتے ہیں مگر مرتے نہیں
کون جی سکتا ہے ہم سے سخت جانوں کی طرح

دل جو کچھ کہتا ہے کرتے ہیں وہی بیخودؔ مگر
سن لیا کرتے ہیں سب کی بے زبانوں کی طرح