EN हिंदी
رات ایسی کہ کبھی جس کا سویرا نہ ہوا | شیح شیری
raat aisi ki kabhi jis ka sawera na hua

غزل

رات ایسی کہ کبھی جس کا سویرا نہ ہوا

شاہد ماہلی

;

رات ایسی کہ کبھی جس کا سویرا نہ ہوا
درد ایسا کہ کوئی جس کا مسیحا نہ ہوا

راز اک دل میں لیے پھرتے ہیں صحرا صحرا
کوئی ہم راز تو ہو شہر میں ایسا نہ ہوا

میرے احساس کی قسمت میں ہی محرومی تھی
کبھی سوچا نہ ہوا اور کبھی چاہا نہ ہوا

دل کے آئینے میں ہر عکس ہے دھندلا دھندلا
لاکھ صورت ہے مگر کوئی بھی تم سا نہ ہوا

بزم اغیار میں شاہدؔ کے اڑے تھے پرزے
کوئی چرچا نہ ہوا کوئی تماشا نہ ہوا