EN हिंदी
راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرے | شیح شیری
raston mein Dher ho kar phul se paikar gire

غزل

راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرے

جعفر شیرازی

;

راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرے
برگ کتنے آندھیوں کے پاؤں میں آ کر گرے

اے جنوں کی ساعتو آمد بہاروں کی ہوئی
دیکھنا وہ شاخچوں سے تتلیوں کے پر گرے

تم نہ سن پائے صدا دل ٹوٹنے کی اور یہاں
شور وہ اٹھا زمیں پر جس طرح امبر گرے

کون جانے کتنی یادوں سے ہوا دل زخم زخم
چاندنی برسی کہ میری روح پر خنجر گرے

منتظر ہوں غم کے اس طوفان ابر و باد میں
کب گھٹا کا شور کم ہو کب ہوا تھک کر گرے

یوں ہوا ہوں جذب جعفرؔ وقت کے طوفان میں
تہہ میں گہرے پانیوں کی جس طرح کنکر گرے