راستہ سمندر کا جب رکا ہوا پایا
اور بھی کناروں کو کاٹتا ہوا پایا
دیر تک ہنسا تھا میں دوستوں کی محفل میں
لوٹ کر نہ جانے کیوں دل دکھا ہوا پایا
دھوپ نے ٹٹولا جب منجمد چٹانوں کو
برف کے تلے لاوا کھولتا ہوا پایا
سوچیے کہیں گے کیا لوگ ایسے موسم کو
جس میں سبز شاخوں کو سوکھتا ہوا پایا
میرے واسطے شاید خط میں تھا وہی جملہ
تیز روشنائی سے جو کٹا ہوا پایا
نیند کی پری آخر ہو گئی خفا ہم سے
اور کوئی آنکھوں میں جب چھپا ہوا پایا
غزل
راستہ سمندر کا جب رکا ہوا پایا
منظور ہاشمی

