EN हिंदी
راکھ کچھ دل میں زیادہ ہے شرارا کم ہے | شیح شیری
rakh kuchh dil mein ziyaada hai sharara kam hai

غزل

راکھ کچھ دل میں زیادہ ہے شرارا کم ہے

محسن احسان

;

راکھ کچھ دل میں زیادہ ہے شرارا کم ہے
ہم نے اس آئنے میں عکس اتارا کم ہے

روشنی آج عجب تیرگئ خاک میں ہے
آسماں دیکھ ترا ایک ستارا کم ہے

ڈھونڈھتا پھرتا ہوں خار و خس و خاشاک میں حسن
میری بینائی کو سوغات نظارا کم ہے

مرگ یاران سخن سنج پہ خوں روتا ہوں
کیا کروں صبر کہ اب صبر کا یارا کم ہے

تم کو اندازۂ سیلاب نہیں ہے محسنؔ
بادلوں نے جو کیا کیا وہ اشارا کم ہے