راہ سفر میں چیز کوئی کیا تھی میرے پاس
بس میں تھا اور وسعت صحرا تھی میرے پاس
تھا میرے پاس گھٹتی ہوئی زندگی کا رنج
اور ایک لمبی خواہش دنیا تھی میرے پاس
اپنا ہر اک نظارہ دکھانا پڑا اسے
کرتا وہ کیا کہ چشم تماشا تھی میرے پاس
تپتے ہوئے دنوں میں کہیں تھی خنک ہوا
اور سردیوں میں آگ سی برپا تھی میرے پاس
کیا چیز تھی جو گھلتی رہی بہتے وقت میں
پل پل بدلتی رنگت دریا تھی میرے پاس
کیسے بگڑ گئی اسے کس نے بدل دیا
شاہیںؔ جو ایک صورت فردا تھی میرے پاس
غزل
راہ سفر میں چیز کوئی کیا تھی میرے پاس
جاوید شاہین

