EN हिंदी
راہ دشوار میں چلنا سیکھو | شیح شیری
rah-e-dushwar mein chalna sikho

غزل

راہ دشوار میں چلنا سیکھو

شاعر فتح پوری

;

راہ دشوار میں چلنا سیکھو
رخ زمانے کا بدلنا سیکھو

زندگی خود ہی سنور جائے گی
غم کے سانچے میں تو ڈھلنا سیکھو

مے پرستی کی ہے اس میں توہین
پی لیا ہے تو سنبھلنا سیکھو

تیرگی آپ ہی چھٹ جائے گی
بن کے خورشید نکلنا سیکھو

دل کو پتھر نہ بناؤ اپنے
موم کی طرح پگھلنا سیکھو

ہو کے سرگرم عمل اے شاعرؔ
نظم عالم کا بدلنا سیکھو