EN हिंदी
قرطاس و قلم ہاتھ میں ہے اور شب مہ ہے | شیح شیری
qirtas o qalam hath mein hai aur shab-e-mah hai

غزل

قرطاس و قلم ہاتھ میں ہے اور شب مہ ہے

محمد اظہار الحق

;

قرطاس و قلم ہاتھ میں ہے اور شب مہ ہے
اے رب ازل کھول دے جو دل میں گرہ ہے

اطراف سے ہر شب سمٹ آتی ہے سفیدی
ہر صبح جبیں پر مگر اک روز سیہ ہے

میں شام سے پہلے ہی پہنچ جاؤں تو بہتر
جنگل میں ہوں اور سر پہ مرے بار گنہ ہے

مہنگی ہے جہاں دھات مرے سرخ لہو سے
زردی کے اس آشوب میں تو میری پنہ ہے

منہ زور زمانوں کی ذرا کھینچ لے باگیں
میرے کسی بچھڑے ہوئے کی سالگرہ ہے