EN हिंदी
قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہو | شیح شیری
qibla-e-ab-o-gil tumhin to ho

غزل

قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہو

احمد حسین مائل

;

قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہو
کعبۂ جان و دل تمہیں تو ہو

لا مکاں دور دل بہت نزدیک
منفصل متصل تمہیں تو ہو

میرے پہلو میں دل نہ کیوں ہو خوش
دل کے پہلو میں دل تمہیں تو ہو

تم سے مل کر خجل ہمیں تو ہیں
ہم سے چھٹ کر خجل تمہیں تو ہو

دل کی سختی کا ہے گلہ تم سے
جس نے رکھی یہ سل تمہیں تو ہو

جیتے جی مجھ کو مار ڈالو تم
مالک جان و دل تمہیں تو ہو

تم کو مائلؔ بہت ہے شرم گناہ
رات دن منفعل تمہیں تو ہو