EN हिंदी
قضا نے حال گل جب صفحۂ تقدیر پر لکھا | شیح شیری
qaza ne haal-e-gul jab safha-e-taqdir par likkha

غزل

قضا نے حال گل جب صفحۂ تقدیر پر لکھا

بقا اللہ بقاؔ

;

قضا نے حال گل جب صفحۂ تقدیر پر لکھا
مری دیوانگی کا ماجرا زنجیر پر لکھا

ضعیفی سے نہیں پیروں کے چیں پیشانی و رو پر
یہ خط ناامیدی ہے کہ روے پیر پر لکھا

نہیں تجھ سے ہمیں دعوئ خوں گر شمع نے قاتل
اب اپنے خوں کا محضر گردن گلگیر پر لکھا

یہ سب مضموں ہے شیریں کوہ کن کی رو سپیدی کا
جہاں تک موج نے سطروں کو جوئے شیر پر لکھا

بقاؔ کے دل میں آ آئینہ تیری قدر کیا جانے
عبث ہے نقش گل گر بلبل تصویر پر لکھا