EN हिंदी
قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے | شیح شیری
qaul us darogh-go ka koi bhi sach hua hai

غزل

قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے

شاد لکھنوی

;

قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے
واعظ جہان بھر کا جھوٹا لباریا ہے

کعبے میں جس حسیں کا لگتا نہیں پتا ہے
مل جائے بت کدے میں جو وہ صنم خدا ہے

پوجا نہ کر بتوں کو اپنی ہی کر پرستش
اے بت پرست پتلا تو بھی تو خاک کا ہے

رگ رگ میں یہ بندھی ہے گرد ملال خاطر
وہ صید ہوں کہ جس کا سب گوشت کرکرا ہے

عمر رواں ہے مثل موج رواں گریزاں
بحر جہاں میں انساں پانی کا بلبلا ہے

کرنے کو سر پھٹول جس کوہ کے درے میں
جب میں پکارتا ہوں فرہاد بولتا ہے

وہ بت نہ رام ہوگا بے رب کسی کے چاہے
اے برہمن خدا کا کیا کوئی دوسرا ہے

دنداں کے عاشقوں کے آنسو ہیں در نہیں ہیں
نکلی جو سیتلا ہے وہ بھی تو موتیا ہے

گم زار شادؔ گاہے امروز را بفردا
معلوم یہ کسے ہے کل کیا ہے آج کیا ہے