EN हिंदी
قطع ہو کر کاکل شب گیر آدھی رہ گئی | شیح شیری
qata ho kar kakul-e-shab-gir aadhi rah gai

غزل

قطع ہو کر کاکل شب گیر آدھی رہ گئی

حاتم علی مہر

;

قطع ہو کر کاکل شب گیر آدھی رہ گئی
اب تو اے سودائیو زنجیر آدھی رہ گئی

ساری بوتل اب کہاں آدھی میں کرتے ہیں گزر
منصفی سے محتسب تعزیر آدھی رہ گئی

شام کا وعدہ کیا آئے وہ آدھی رات کو
جذبۂ دل کی مرے تاثیر آدھی رہ گئی

ڈھل گیا عہد جوانی ہو گیا آخر شباب
زندگی اپنی بھی چرخ پیر آدھی رہ گئی

اک کشش عشق کمان ابرو کی ہے تیری تڑپ
بعد میں جو راہ تھی دو تیر آدھی رہ گئی

جبہ سائی کرتے کرتے گھس گئی لوح جبیں
میری قسمت کی جو تھی تحریر آدھی رہ گئی

ساری عزت نوکری سے اس زمانے میں ہے مہرؔ
جب ہوئے بے کار بس توقیر آدھی رہ گئی