قریب آتے ہوئے اور دور جاتے ہوئے
یہ کون لوگ ہیں بے وجہ مسکراتے ہوئے
یہ لمحے ساز ازل سے چھلک کے گر گئے تھے
تبھی سے یوں ہی مسلسل ہیں گنگناتے ہوئے
اک ایسی سمت جدھر کب سے ہو کا عالم ہے
میں جا رہا ہوں اکیلا قدم بڑھاتے ہوئے
میں کب سے دیکھ رہا ہوں عجیب سی حرکت
مرا لکھا ہوا کچھ لوگ ہیں مٹاتے ہوئے
جو دل کے پاس تھے ان سے ہے معرکہ درپیش
چلا ہوں جذبوں کی دیوار آج ڈھاتے ہوئے

غزل
قریب آتے ہوئے اور دور جاتے ہوئے
جمال اویسی