EN हिंदी
قلق آ گیا اضطراب آ گیا | شیح شیری
qalaq aa gaya iztirab aa gaya

غزل

قلق آ گیا اضطراب آ گیا

میلہ رام وفاؔ

;

قلق آ گیا اضطراب آ گیا
یہ دل کیا گیا اک عذاب آ گیا

لفافے میں پرزے مرے خط کے ہیں
مرے خط کا آخر جواب آ گیا

ادھر بڑھتے بڑھتے بڑھا دست شوق
ادھر آتے آتے حجاب آ گیا

کہا اس نے دیکھا جو در پر مجھے
کہاں سے یہ خانہ خراب آ گیا

جبیں پرشکن ہے نگہ شعلہ ریز
یہ کون آج زیر عتاب آ گیا

سکندر نصیبے کا ہے وہ فقیر
ترے در سے جو کامیاب آ گیا

یہ عالم ہوا تابش حسن سے
سوا نیزے پر آفتاب آ گیا

ہوئے ہی تھے آمادہ توبہ پہ ہم
کہ گردش میں جام شراب آ گیا

ہوئی قائل جلوۂ طور خلق
سر بام وہ بے نقاب آ گیا

یہ کیا کم ہے اے شیخ مے کا جواز
وہ کعبہ سے اٹھ کر سحاب آ گیا

اٹھائے گئے بزم سے بوالہوس
انہیں شیوۂ انتخاب آ گیا

عدو ساتھ رہنے لگے اے وفاؔ
گہن میں مرا آفتاب آ گیا