قلق آ گیا اضطراب آ گیا
یہ دل کیا گیا اک عذاب آ گیا
لفافے میں پرزے مرے خط کے ہیں
مرے خط کا آخر جواب آ گیا
ادھر بڑھتے بڑھتے بڑھا دست شوق
ادھر آتے آتے حجاب آ گیا
کہا اس نے دیکھا جو در پر مجھے
کہاں سے یہ خانہ خراب آ گیا
جبیں پرشکن ہے نگہ شعلہ ریز
یہ کون آج زیر عتاب آ گیا
سکندر نصیبے کا ہے وہ فقیر
ترے در سے جو کامیاب آ گیا
یہ عالم ہوا تابش حسن سے
سوا نیزے پر آفتاب آ گیا
ہوئے ہی تھے آمادہ توبہ پہ ہم
کہ گردش میں جام شراب آ گیا
ہوئی قائل جلوۂ طور خلق
سر بام وہ بے نقاب آ گیا
یہ کیا کم ہے اے شیخ مے کا جواز
وہ کعبہ سے اٹھ کر سحاب آ گیا
اٹھائے گئے بزم سے بوالہوس
انہیں شیوۂ انتخاب آ گیا
عدو ساتھ رہنے لگے اے وفاؔ
گہن میں مرا آفتاب آ گیا
غزل
قلق آ گیا اضطراب آ گیا
میلہ رام وفاؔ

