قید شب حیات بدن میں گزار کے
اڑ جاؤں گا میں صبح اذیت اتار کے
اک دھوپ زندگی کو یوں صحرا بنا گئی
آئے نہ اس اجاڑ میں موسم بہار کے
یہ بے گناہ شمع جلے گی تمام رات
اس کے لبوں سے چھو گئے تھے لب شرار کے
سیلن کو راہ مل گئی دیمک کو سیرگاہ
انجام دیکھ لیجئے گھر کی درار کے
سجتی نہیں ہے تم پہ یہ تہذیب مغربی
اک تو پھٹے لباس ہیں وہ بھی ادھار کے
بادل نہیں حضور یہ آندھی ہے آگ کی
آنکھوں سے دیکھیے ذرا چشمہ اتار کے
جب ہتھکڑی کو توڑ کے کافر ہوا فرار
روتے رہے اسیر خدا کو پکار کے
غزل
قید شب حیات بدن میں گزار کے
مینک اوستھی

