EN हिंदी
قدموں کو ٹھہرنے کا ہنر ہی نہیں آیا | شیح شیری
qadmon ko Thaharne ka hunar hi nahin aaya

غزل

قدموں کو ٹھہرنے کا ہنر ہی نہیں آیا

ارشد عبد الحمید

;

قدموں کو ٹھہرنے کا ہنر ہی نہیں آیا
سب منزلیں سر ہو گئیں گھر ہی نہیں آیا

تھی تیغ اسی ہاتھ میں قاتل بھی وہی تھا
جو ہاتھ کہ مقتل میں نظر ہی نہیں آیا

گھر کھود دیا سارا خزانے کی ہوس میں
نیو آ گئی تہہ خانے کا در ہی نہیں آیا

کیا شاخوں پہ اترائیے کیا کیجے گلوں کا
پیڑوں پہ اگر کوئی ثمر ہی نہیں آیا

سو خوف زمانے کے سمٹ آئے ہیں دل میں
بس ایک خدا پاک کا ڈر ہی نہیں آیا