EN हिंदी
قدم شباب میں اکثر بہکنے لگتا ہے | شیح شیری
qadam shabab mein aksar bahakne lagta hai

غزل

قدم شباب میں اکثر بہکنے لگتا ہے

حفیظ بنارسی

;

قدم شباب میں اکثر بہکنے لگتا ہے
بھرا ہو جام تو از خود چھلکنے لگتا ہے

کوئی چراغ اندھیروں میں جب نہیں جلتا
کسی کی یاد کا جگنو چمکنے لگتا ہے

شب فراق مجھے نیند جب نہیں آتی
یہ کس کا ہاتھ مرا سر تھپکنے لگتا ہے