قدم شباب میں اکثر بہکنے لگتا ہے
بھرا ہو جام تو از خود چھلکنے لگتا ہے
کوئی چراغ اندھیروں میں جب نہیں جلتا
کسی کی یاد کا جگنو چمکنے لگتا ہے
شب فراق مجھے نیند جب نہیں آتی
یہ کس کا ہاتھ مرا سر تھپکنے لگتا ہے
غزل
قدم شباب میں اکثر بہکنے لگتا ہے
حفیظ بنارسی

