EN हिंदी
قدم قدم پر کی رسوائی پھسلا ہر اک زینے پر | شیح شیری
qadam qadam par ki ruswai phisla har ek zine par

غزل

قدم قدم پر کی رسوائی پھسلا ہر اک زینے پر

پریم کمار نظر

;

قدم قدم پر کی رسوائی پھسلا ہر اک زینے پر
پریم کمار نظرؔ جی بھیجو لعنت بدن کمینے پر

اپنی بھی مشکل حل کر لو اس کا بھی کلیان کرو
اس کا راز اسی کو سونپو بوجھ نہ رکھو سینے پر

نیلے گرم سمندر سے تو ڈر کر کوسوں بھاگو ہو!
ریت میں چپو مار کے خوش ہو حیف تمہارے جینے پر

اپنے اندر باہر ''جم جم پھیلے مشک نصیبو دی''
چادر کا اجلا پن بھولو عطر نہ چھڑکو پسینے پر

تم کو کیا معلوم عذاب جسم کو کیسے جھیلتے ہیں
اک دو دن میں کام بناؤ بات نہ ٹالو مہینے پر