EN हिंदी
قدم خوش بدناں شعبدہ گر ہے کہ نہیں | شیح شیری
qadam-e-KHush-badanan shoabda-gar hai ki nahin

غزل

قدم خوش بدناں شعبدہ گر ہے کہ نہیں

سید امین اشرف

;

قدم خوش بدناں شعبدہ گر ہے کہ نہیں
یہ زمیں‌ لالہ رخ و کشت گہر ہے کہ نہیں

دیکھیے رنگ حنا روئے شفق جوش بہار
طائر خواب تو ہے تاب سفر ہے کہ نہیں

بے سبب میں نہیں تاثیر نظر کا قائل
زخم غنچہ صفت و شاخ ثمر ہے کہ نہیں

تیری آواز کلید چمنستاں ہے مگر
سینۂ نے میں گداز گل تر ہے کہ نہیں

دیکھنے جاؤں قد و عارض و گیسوئے صنم
سوچتا ہوں کہ کوئی راہ و مفر ہے کہ نہیں

سر پٹکتی ہوئی اک موج نے دریا سے کہا
آب آسودۂ دریا مرا گھر ہے کہ نہیں

زور امواج تلاطم سے ہے دریا دریا
حرف بے سود کہ دریا میں گہر ہے کہ نہیں