EN हिंदी
قاتل ہوا خموش تو تلوار بول اٹھی | شیح شیری
qatil hua KHamosh to talwar bol uThi

غزل

قاتل ہوا خموش تو تلوار بول اٹھی

بخش لائلپوری

;

قاتل ہوا خموش تو تلوار بول اٹھی
مقتل میں خون گرم کی ہر دھار بول اٹھی

پوچھا سبک سروں کا نمائندہ کون ہے
سن کر فقیہ شہر کی دستار بول اٹھی

اہل ستم کے خوف سے جو چپ تھی وہ زباں
جب بولنے پہ آئی سر دار بول اٹھی

میری تباہیوں کی ہے اس میں خبر ضرور
از خود ہر ایک سرخیٔ اخبار بول اٹھی

چہرہ تھا زخم زخم کوئی پوچھتا نہ تھا
یوسف بنے تو گرمئ بازار بول اٹھی

اک ناخدا ہی یورش طوفاں پہ چپ رہا
چپو کبھی تو اور کبھی پتوار بول اٹھی

کچھ اس طرح سے نقش تھے اینٹوں پہ سانچے کے
زنداں میں مجھ کو دیکھ کے دیوار بول اٹھی