EN हिंदी
قامت دل ربا پر شباب آ گیا | شیح شیری
qamat-e-dil-ruba par shabab aa gaya

غزل

قامت دل ربا پر شباب آ گیا

نشور واحدی

;

قامت دل ربا پر شباب آ گیا
یا سوا نیزے پر آفتاب آ گیا

جاگی جاگی ان آنکھوں کا عالم نہ پوچھ
سامنے ایک جام شراب آ گیا

اک نگاہ محبت کی تخمیر میں
سب سمٹ کر جہان خراب آ گیا

یہ چلے وہ بڑھے وہ جواں ہو گئے
چند لمحوں میں یوم الحساب آ گیا

جھوم اٹھی ایک ارماں بھری زندگی
جب ہوائیں چلیں جب سحاب آ گیا

آئیے آئیے اس طرف وہ نشورؔ
شاعر یادگار شباب آ گیا