پوچھیں وہ کاش حال دل بے قرار کا
ہم بھی کہیں کہ شکر ہے پروردگار کا
لازم اگر ہے شکر ہی پروردگار کا
پھر کیا علاج گردش لیل و نہار کا
صیاد بھی پہنچ گیا گلچی بھی باغ میں
اے ہم صفیر آ گیا موسم بہار کا
تدبیر کیا ہو صبر و شکیب و قرار کی
وہ تند خو ہے بس کا نہ دل اختیار کا
کیوں کر مٹے ندامت اظہار آرزو
عالم نظر میں ہے نگہ شرمسار کا
قانون کس نے بدلا ہے قدرت کا شیخ جی
دارو ہے اب بھی مے ہی غم روزگار کا
ان نامیوں کے حشر سے عبرت پذیر ہو
باقی نہیں نشان بھی جن کے غبار کا
رکھے گا بیقرار تمہیں بھی تمام عمر
مرنا تڑپ تڑپ کے کسی بیقرار کا
بے لوث ہو ہوس سے اگر عشق اے وفاؔ
ہے ذکر یار میں بھی مزہ وصل یار کا
غزل
پوچھیں وہ کاش حال دل بے قرار کا
میلہ رام وفاؔ

