EN हिंदी
پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چل | شیح شیری
pitam ke dekhne ke tamasha ko jaen chal

غزل

پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چل

علیم اللہ

;

پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چل
اپنے پیا کو عشق سوں اپنے رجھائیں چل

جلسہ کیا ہے یار محل میں جلی کے آج
خلوت میں اب خفی کے پیا کو بلائیں چل

پروا نہیں پیا کو کسی کے وصال سوں
فن سوں اسی کے اس کو اپس میں رجھائیں چل

دم کا سرود کر کے ارادے کا تار باندھ
ستری صدا کا صور بجا کر سنائیں چل

ناسوت سے گزر کے تفرح سوں اے علیمؔ
لاہوت کے مکاں میں سدا غل مچائیں چل