پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چل
اپنے پیا کو عشق سوں اپنے رجھائیں چل
جلسہ کیا ہے یار محل میں جلی کے آج
خلوت میں اب خفی کے پیا کو بلائیں چل
پروا نہیں پیا کو کسی کے وصال سوں
فن سوں اسی کے اس کو اپس میں رجھائیں چل
دم کا سرود کر کے ارادے کا تار باندھ
ستری صدا کا صور بجا کر سنائیں چل
ناسوت سے گزر کے تفرح سوں اے علیمؔ
لاہوت کے مکاں میں سدا غل مچائیں چل
غزل
پیتم کے دیکھنے کے تماشا کو جائیں چل
علیم اللہ

