EN हिंदी
پھوٹے من سے بول لگا، یہ زندہ ہوں میں | شیح شیری
phuTe man se bol, laga ye zinda hun main

غزل

پھوٹے من سے بول لگا، یہ زندہ ہوں میں

سوربھ شیکھر

;

پھوٹے من سے بول لگا، یہ زندہ ہوں میں
اب مجھ کو احساس ہوا یہ زندہ ہوں میں

یارو میرے نام پہ رونا بند کرو تم
دور ہٹاؤ اب مجمع یہ زندہ ہوں میں

آنکھیں مل مل کر دیکھا قاتل نے مجھ کو
سچ نکلا اس کا خدشہ یہ زندہ ہوں میں

میں تصدیق کروں گا تیرے گرم لہو کی
تو بھی مجھ کو یاد دلا یہ زندہ ہوں میں

مجھ پر میری ذات ادھار ہے لیکن سوربھؔ
چکتا کر دوں گا قرضہ یہ، زندہ ہوں میں