پھولوں سے لہو کیسے ٹپکتا ہوا دیکھوں
آنکھوں کو بجھا لوں کہ حقیقت کو بدل دوں
حق بات کہوں گا مگر اے جرأت اظہار
جو بات نہ کہنی ہو وہی بات نہ کہہ دوں
ہر سوچ پہ خنجر سا گزر جاتا ہے دل سے
حیراں ہوں کہ سوچوں تو کس انداز میں سوچوں
آنکھیں تو دکھاتی ہیں فقط برف سے پیکر
جل جاتی ہیں پوریں جو کسی جسم کو چھو لوں
چہرے ہیں کہ مرمر سے تراشی ہوئی لوحیں
بازار میں یا شہر خموشاں میں کھڑا ہوں
سناٹے اڑا دیتے ہیں آواز کے پرزے
باروں کو اگر دشت مصیبت میں پکاروں
ملتی نہیں جب موت بھی مانگے سے تو یا رب
ہو اذن تو میں اپنی صلیب آپ اٹھا لوں
غزل
پھولوں سے لہو کیسے ٹپکتا ہوا دیکھوں
احمد ندیم قاسمی

