EN हिंदी
پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری | شیح شیری
phulon mein agar hai bu tumhaari

غزل

پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری

امیر مینائی

;

پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری
کانٹوں میں بھی ہوگی خو تمہاری

اس دل پہ ہزار جان صدقے
جس دل میں ہے آرزو تمہاری

دو دن میں گلو بہار کیا کی
رنگت وہ رہی نہ بو تمہاری

چٹکا جو چمن میں غنچۂ گل
بو دے گئی گفتگو تمہاری

مشتاق سے دور بھاگتی ہے
اتنی ہے اجل میں خو تمہاری

گردش سے ہے مہر و مہ کے ثابت
ان کو بھی ہے جستجو تمہاری

آنکھوں سے کہو کمی نہ کرنا
اشکوں سے ہے آبرو تمہاری

لو سرد ہوا میں نیم بسمل
پوری ہوئی آرزو تمہاری

سب کہتے ہیں جس کو لیلۃ القدر
ہے کاکل مشک بو تمہاری

تنہا نہ پھرو امیرؔ شب کو
ہے گھات میں ہر عدو تمہاری