EN हिंदी
پھول کھلا دے شاخوں پر پیڑوں کو پھل دے مالک | شیح شیری
phul khila de shaKHon par peDon ko phal de malik

غزل

پھول کھلا دے شاخوں پر پیڑوں کو پھل دے مالک

شکیل اعظمی

;

پھول کھلا دے شاخوں پر پیڑوں کو پھل دے مالک
دھرتی جتنی پیاسی ہے اتنا تو جل دے مالک

کہرا کہرا سردی ہے کانپ رہا ہے پورا گاؤں
دن کو تپتا سورج دے رات کو کمبل دے مالک

بیلوں کو اک گٹھری گھاس انسانوں کو دو روٹی
کھیتوں کو بھر گیہوں سے کاندھوں کو ہل دے مالک

وقت بڑا دکھ دائک ہے پاپی ہے سنسار بہت
نردھن کو دھنوان بنا دربل کو بل دے مالک

ہاتھ سبھی کے کالے ہیں نظریں سب کی پیلی ہیں
سینہ ڈھانپ دوپٹے سے سر کو آنچل دے مالک

کل کو آج سے باندھے رکھ آج کو کل سے جوڑے رکھ
جب تک کھیل تماشہ ہے پیر کو منگل دے مالک