EN हिंदी
پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میں | شیح شیری
phul jitne hain tumhaare haar mein

غزل

پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میں

مرزا آسمان جاہ انجم

;

پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میں
سب گندھے ہیں آنسوؤں کے تار میں

جس نے چاہا تجھ کو سر گرداں رہا
دشت میں کوئی کوئی کہسار میں

دل کے ٹکڑے او ستم گر باندھ لے
کوئی خنجر میں کوئی تلوار میں

ہر جگہ ہیں چاہنے والے ترے
کوئی صحرا میں کوئی گل زار میں

ہے جگہ سر پھوڑ لینے کو بہت
کیا دھرا ہے آپ کی دیوار میں

تو اگر دم بھر کو آ جائے مسیح
جان آ جائے ترے بیمار میں

جو بنے اے چرخ وہ ہم پر بنے
پر نہ فرق آئے تری رفتار میں

آنکھوں ہی آنکھوں میں اے انجمؔ کٹی
رات ساری انتظار یار میں