EN हिंदी
پھر وہی تو ساتھ میرے پھر وہی بستی پرانی | شیح شیری
phir wahi tu sath mere phir wahi basti purani

غزل

پھر وہی تو ساتھ میرے پھر وہی بستی پرانی

راجیندر منچندا بانی

;

پھر وہی تو ساتھ میرے پھر وہی بستی پرانی
ایک اک رستہ ہے تیری رونق پا کی کہانی

اے گل آوارگی تیری مہک تاروں سے کھیلے
اے ندی بہتا رہے دائم ترا بیدار پانی

سبز نیلی دھند میں ڈوبے پہاڑوں سے اترتی
کیا عجب منظر بہ منظر روشنی ہے داستانی

اک گھنے سرشار حاصل کی فضا ہے اور دونوں
اب نہیں ہے درمیاں کوئی بھی منزل امتحانی

میں کہ تھا منکر ترا اور اب کہ میں قائل کھڑا ہوں
اے وصال لمحہ لمحہ اے عطائے آسمانی