پھر وہی تو ساتھ میرے پھر وہی بستی پرانی
ایک اک رستہ ہے تیری رونق پا کی کہانی
اے گل آوارگی تیری مہک تاروں سے کھیلے
اے ندی بہتا رہے دائم ترا بیدار پانی
سبز نیلی دھند میں ڈوبے پہاڑوں سے اترتی
کیا عجب منظر بہ منظر روشنی ہے داستانی
اک گھنے سرشار حاصل کی فضا ہے اور دونوں
اب نہیں ہے درمیاں کوئی بھی منزل امتحانی
میں کہ تھا منکر ترا اور اب کہ میں قائل کھڑا ہوں
اے وصال لمحہ لمحہ اے عطائے آسمانی
غزل
پھر وہی تو ساتھ میرے پھر وہی بستی پرانی
راجیندر منچندا بانی

