EN हिंदी
پھر وہی مہرباں ہوا آئی | شیح شیری
phir wahi mehrban hua aai

غزل

پھر وہی مہرباں ہوا آئی

خالد احمد

;

پھر وہی مہرباں ہوا آئی
اے مری بے چراغ تنہائی

بین کرنے لگیں نہ سناٹے
پاسداران گوش و گوپائی

کس نے توفیق سے سوا پایا
دل نے غم آنکھ نے نمی پائی

عشق کا اجر ہے دل رسوا
پارسائی عذاب دانائی

یہ اسی شہر کے منارے ہیں
اے تحیر سرشت بینائی!

چار جانب وہی دھندلکے ہیں
گمرہو! پھر وہی گلی آئی

نا سپاسوں میں با وقار نہ بن
اے مری بے وقار گویائی