پھر وہی مہرباں ہوا آئی
اے مری بے چراغ تنہائی
بین کرنے لگیں نہ سناٹے
پاسداران گوش و گوپائی
کس نے توفیق سے سوا پایا
دل نے غم آنکھ نے نمی پائی
عشق کا اجر ہے دل رسوا
پارسائی عذاب دانائی
یہ اسی شہر کے منارے ہیں
اے تحیر سرشت بینائی!
چار جانب وہی دھندلکے ہیں
گمرہو! پھر وہی گلی آئی
نا سپاسوں میں با وقار نہ بن
اے مری بے وقار گویائی
غزل
پھر وہی مہرباں ہوا آئی
خالد احمد

