EN हिंदी
پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھا | شیح شیری
phir wahi kahne lage tu mere ghar aaya tha

غزل

پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھا

غلام محمد قاصر

;

پھر وہی کہنے لگے تو مرے گھر آیا تھا
چاند جن چار گواہوں کو نظر آیا تھا

رنگ پھولوں نے چنے آپ سے ملتے جلتے
اور بتاتے بھی نہیں کون ادھر آیا تھا

بوند بھی تشنہ ابابیل پہ نازل نہ ہوئی
ورنہ بادل تو بلندی سے اتر آیا تھا

تو نے دیکھا ہی نہیں ورنہ وفا کا مجرم
اپنی آنکھیں تری دہلیز پہ دھر آیا تھا

بھول بیٹھے ہیں نئے خواب کی سرشاری میں
اس سے پہلے بھی تو اک خواب نظر آیا تھا