EN हिंदी
پھر وہی بات ہو گئی ہوگی | شیح شیری
phir wahi baat ho gai hogi

غزل

پھر وہی بات ہو گئی ہوگی

منیر سیفی

;

پھر وہی بات ہو گئی ہوگی
شاہ کو مات ہو گئی ہوگی

مل گئے ہوں گے دونوں وقت گلے
اور پھر رات ہو گئی ہوگی

چھا گئے ہوں گے یاد کے بادل
کھل کے برسات ہو گئی ہوگی

تیرگی نے چھڑا لیا دامن
چاندنی رات ہو گئی ہوگی

خوشبوئیں آئی ہیں لفافے میں
نفی اثبات ہو گئی ہوگی

جال کیوں بن رہی ہے خاموشی
پھر ملاقات ہو گئی ہوگی