EN हिंदी
پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو | شیح شیری
phir sun raha hun guzre zamane ki chap ko

غزل

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو

شکیب جلالی

;

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو

رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں
اتنا نہ تیز کیجیے ڈھولک کی تھاپ کو

اشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہو گئی
کیوں کر مٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو

کتنا ہی بے کنار سمندر ہو پھر بھی دوست
رہتا ہے بے قرار ندی کے ملاپ کو

پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں
پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو

تعریف کیا ہو قامت دل دار کی شکیبؔ
تجسیم کر دیا ہے کسی نے الاپ کو