EN हिंदी
پھر سے بدل کے مٹی کی صورت کرو مجھے | شیح شیری
phir se badal ke miTTi ki surat karo mujhe

غزل

پھر سے بدل کے مٹی کی صورت کرو مجھے

منور رانا

;

پھر سے بدل کے مٹی کی صورت کرو مجھے
عزت کے ساتھ دنیا سے رخصت کرو مجھے

میں نے تو تم سے کی ہی نہیں کوئی آرزو
پانی نے کب کہا تھا کہ شربت کرو مجھے

کچھ بھی ہو مجھ کو ایک نئی شکل چاہئے
دیوار پر بچھاؤ مجھے چھت کرو مجھے

جنت پکارتی ہے کہ میں ہوں ترے لئے
دنیا بضد ہے مجھ سے کہ جنت کرو مجھے