EN हिंदी
پھر کوئی حادثہ ہوا ہی نہیں | شیح شیری
phir koi hadisa hua hi nahin

غزل

پھر کوئی حادثہ ہوا ہی نہیں

روحی کنجاہی

;

پھر کوئی حادثہ ہوا ہی نہیں
کوئی ان کی طرح ملا ہی نہیں

ہو چکی پتھروں کی بارش تک
زخم احساس جاگتا ہی نہیں

سر سے پانی گزر چکا ہے مگر
دل کسی طور ڈوبتا ہی نہیں

طے ہوئے مرحلے کئی لیکن
فاصلہ تو کوئی مٹا ہی نہیں

ان کو کیا کیا گلے رہے ہم سے
ہم کو جن سے کوئی گلہ ہی نہیں

آس نے آ کے دم کہاں توڑا
اب کے روحیؔ پتہ چلا ہی نہیں