EN हिंदी
پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے | شیح شیری
phir kabhi lauT kar na aaenge

غزل

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے

حبیب جالب

;

پھر کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے
ہم ترا شہر چھوڑ جائیں گے

دور افتادہ بستیوں میں کہیں
تیری یادوں سے لو لگائیں گے

شمع ماہ و نجوم گل کر کے
آنسوؤں کے دیئے جلائیں گے

آخری بار اک غزل سن لو
آخری بار ہم سنائیں گے

صورت موجۂ ہوا جالبؔ
ساری دنیا کی خاک اڑائیں گے