EN हिंदी
پھر آپ نے دیکھا ہے محبت کی نظر سے | شیح شیری
phir aapne dekha hai mohabbat ki nazar se

غزل

پھر آپ نے دیکھا ہے محبت کی نظر سے

مظہر امام

;

پھر آپ نے دیکھا ہے محبت کی نظر سے
گزرے نہ کہیں گردش دوراں بھی ادھر سے

پوچھیں تو ذرا پیچ و خم راہ کی باتیں
کچھ لوگ ابھی لوٹ کے آئے ہیں سفر سے

شاید کہیں سورج کی کرن شام کو پھوٹے
ہم شمع جلائے ہوئے بیٹھے ہیں سحر سے

لوگو مری آشفتہ سری پر نہ کرو طنز
الزام اتارو کوئی اس زلف کے سر سے

دیکھا نہ انہیں دیدۂ حیرت نے دوبارہ
جلووں کو شکایت ہے مری تاب نظر سے

خوشبوئے گل و لالہ چھپا لیتے ہیں پتے
اب قدر ہنر ہے تو فقط عرض ہنر سے

تارے تو چمک اپنی دکھاتے ہیں سحر تک
دل ڈوبنے لگتا ہے مگر پچھلے پہر سے

غیروں کی نگاہیں ترے جلووں سے ہیں سیراب
اے کاش یہ بادل مری آنکھوں پہ بھی برسے

ظلمت ہی کے سائے میں سکوں ڈھونڈئیے مظہرؔ
خیرات بہت مانگ چکے نور سحر سے