EN हिंदी
پیٹ کی آگ بجھانے کا سبب کر رہے ہیں | شیح شیری
peT ki aag bujhane ka sabab kar rahe hain

غزل

پیٹ کی آگ بجھانے کا سبب کر رہے ہیں

شکیل جمالی

;

پیٹ کی آگ بجھانے کا سبب کر رہے ہیں
اس زمانے کے کئی میر مطب کر رہے ہیں

کوئی ہمدرد بھرے شہر میں باقی ہو تو ہو
اس کڑے وقت میں گمراہ تو سب کر رہے ہیں

کہیں خطرے میں نہ پڑ جائے بزرگی اپنی
لوگ اس خوف سے چھوٹوں کا ادب کر رہے ہیں

سب لفافے کی حصولی کے لیے ہو رہا ہے
ہم جو یہ شغل جو یہ کار ادب کر رہے ہیں

ہر کوئی جان ہتھیلی پہ لیے پھر رہا ہے
ان دنوں وہ لب و رخسار غضب کر رہے ہیں