EN हिंदी
پتھر بنا کر عرش سے پھینکا گیا تھا ایک میں | شیح شیری
patthar bana kar arsh se phenka gaya tha ek main

غزل

پتھر بنا کر عرش سے پھینکا گیا تھا ایک میں

کاوش بدری

;

پتھر بنا کر عرش سے پھینکا گیا تھا ایک میں
شاید خدا سے پہلے ہی پوجا گیا تھا ایک میں

تخلیق کاری میں تجھے حاصل مہارت ہے مگر
کس انہماک و شوق سے سوچا گیا تھا ایک میں

طفلی سے پیری تک مرے احوال سن لینا کبھی
وقت ولادت ہی بہت کوسا گیا تھا ایک میں

نقش قدم بھی آپ کا اک سانپ کا پھن ہی لگا
سایہ نما خنجر سے ہی مارا گیا تھا ایک میں

دن سا رے گا ما میں کٹا شب پا دھا نی سا میں کٹی
نکلی سریلی ایک وہ کان آشنا تھا ایک میں

کشکول بھی بن جائے گی اک روز اپنی کھوپڑی
مٹی کے برتن کی طرح برتا گیا تھا ایک میں

گائک ہوا شاعر ہوا عاشق ہوا صوفی ہوا
دیوانہ پن کی حد نہ تھی کیا کیا بنا تھا ایک میں

کیا تم ہی کاوشؔ ہو میاں کچھ اعتبار آتا نہیں
اللہ میاں ہی ایک ہیں کہتے ہو کیوں تھا ایک میں