EN हिंदी
پردۂ ساز میں بھی سوز کا حامل ہونا | شیح شیری
parda-e-saz mein bhi soz ka hamil hona

غزل

پردۂ ساز میں بھی سوز کا حامل ہونا

محمد صادق ضیا

;

پردۂ ساز میں بھی سوز کا حامل ہونا
شمع سے سیکھ شریک غم محفل ہونا

بزم ہستی پہ ہے مشکل مرا مائل ہونا
مجھے آتا نہیں سرگشتہ باطل ہونا

ناخدا تو مجھے آلودۂ طوفاں نہ سمجھ
موج دریا کو سکھاتا ہوں میں ساحل ہونا

سازگار آج مجھے راہ بھی ہے رہبر بھی
میری قسمت میں ہے آسودۂ منزل ہونا

رشتۂ ہوش ہے وابستہ تجھی سے اے دوست
کبھی ممکن نہیں تجھ سے مرا غافل ہونا

دل سے ہشیار کہ ہے دل ہی طرح عین حیات
موت سے بھی ہے سوا بے خبر دل ہونا

سعی کے بعد نہ کر کاوش فکر انجام
لعنت سعی ہے زحمت کش حاصل ہونا

بارش ابر سے بجلی کی لگی بجھ نہ سکی
غیر ممکن ہے علاج تپش دل نہ ہونا

ہر قدم پر رہ ہستی میں نئی ٹھوکر ہے
اے ضیاؔ سہل نہیں فائز منزل ہونا