EN हिंदी
پلکوں پر نم باقی ہے | شیح شیری
palkon par nam baqi hai

غزل

پلکوں پر نم باقی ہے

فراست رضوی

;

پلکوں پر نم باقی ہے
اب تک وہ غم باقی ہے

زخم کبھی بھر جائیں گے
وقت کا مرہم باقی ہے

کیسا ستم ہے وصل کے بیچ
ہجر کا عالم باقی ہے

پچھلی محبت کا تجھ میں
رنگ اک مدھم باقی ہے

چلتے رہنا ہے مجھ کو
جب تک یہ دم باقی ہے

ایک تعلق ہے یہ بھی
نفرت باہم باقی ہے