EN हिंदी
پلنگ کوں چھوڑ خالی گود سیں جب اٹھ گیا میتا | شیح شیری
palang kun chhoD Khaali god sin jab uTh gaya mita

غزل

پلنگ کوں چھوڑ خالی گود سیں جب اٹھ گیا میتا

آبرو شاہ مبارک

;

پلنگ کوں چھوڑ خالی گود سیں جب اٹھ گیا میتا
چتر کاری لگی کھانے ہمن کوں گھر ہوا چیتا

بنائی بے نوائی کی جوں طرح سب سے چھڑے ہم نیں
تجھ اوروں کو لیا ہے ساتھ اپنے اک نہیں میتا

سرت کے تار ابجد ایک سر ہو مل کے سب بولے
کہ جس کوں گیان ہے اس جان کوں ہر تان ہے گیتا

جدائی کے زمانے کی سجن کیا زیادتی کہیے
کہ اس ظالم کی جو ہم پر گھڑی گزری سو جگ بیتا

مقرر جب کہ جاں بازوں میں اس کا ہو چکا مرنا
ہوا تب اس قدر خوش دل گویا عاشق نے جگ جیتا

لگا دل یار سیں تب اس کو کیا کام آبروؔ سیتی
کہ زخمی عشق کا پھر مانگ کر پانی نہیں پیتا