EN हिंदी
پل پل مری خواہش کو پھر انگیز کیے جائے | شیح شیری
pal pal meri KHwahish ko phir angez kiye jae

غزل

پل پل مری خواہش کو پھر انگیز کیے جائے

محمد احمد رمز

;

پل پل مری خواہش کو پھر انگیز کیے جائے
مجھ کو وہ مرے ظرف میں لبریز کیے جائے

یہ کون ہے جو آگ سی دہکائے لہو میں
اندر سے مری پیاس کو چنگیز کیے جائے

سودا ہے کوئی سر میں تو پھر ٹوٹے گی زنجیر
دیوانہ ابھی رقص جنوں تیز کیے جائے

گویا مری خوشبو کو وہ پہچان گیا ہے
اچھا ہے کہ مجھ سے ابھی پرہیز کیے جائے

پائے نہ مری گرد سفر بھی یہ زمانہ
رفتار بہت ہے جو وہ مہمیز کیے جائے

رکھے یونہی شاداب مجھے کشت غزل میں
موسم ترا مٹی مری زرخیز کیے جائے