EN हिंदी
پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا | شیح شیری
pahle to miTTi ka aur pani ka andaza hua

غزل

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

شاہین عباس

;

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا
پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا

اے محبت تیرے دکھ سے دوستی آساں نہ تھی
تجھ سا ہو کر تیری ویرانی کا اندازہ ہوا

عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خود پر کئے
عمر بھر میں عالم فانی کا اندازہ ہوا

اک زمانے تک بدن بن خواب بن آداب تھے
پھر اچانک اپنی عریانی کا اندازہ ہوا

تیرے ہاتھوں جل اٹھے ہم تیرے ہاتھوں جل بجھے
ہوتے ہوتے آگ اور پانی کا اندازہ ہوا

لوگ میری بند آنکھوں میں سے گزرے تب انہیں
اپنی اپنی خواب سامانی کا اندازہ ہوا

ایک گھیرا وقت کا ہے دوسرا نا وقت کا
خود نگر کچھ اپنی نگرانی کا اندازہ ہوا

صورتیں بگڑیں تو اپنی حالتوں میں آئے ہم
آئنہ ٹوٹا تو حیرانی کا اندازہ ہوا

رات اک دہلیز ایسی آ گئی تھی خواب میں
رات کچھ کچھ اپنی پیشانی کا اندازہ ہوا