EN हिंदी
پہلے تو بہت گردش دوراں سے لڑا ہوں | شیح شیری
pahle to bahut gardish-e-dauran se laDa hun

غزل

پہلے تو بہت گردش دوراں سے لڑا ہوں

پریم واربرٹنی

;

پہلے تو بہت گردش دوراں سے لڑا ہوں
اب کس کی تمنا ہے جو مقتل میں کھڑا ہوں

گو قدر مری بزم سخن میں نہیں لیکن
ہیرے کی طرح فن کی انگوٹھی میں جڑا ہوں

خیرات میں بانٹے تھے جہاں میں نے ستارے
خود آج وہیں کاسۂ شب لے کے کھڑا ہوں

ہوتا کوئی پتھر بھی تو کام آتا جنوں کے
ٹوٹا ہوا شیشہ ہوں سر راہ پڑا ہوں

سمٹوں تو کسی سیپ کے سینے میں سما جاؤں
اے پریمؔ جو پھیلوں تو سمندر سے بڑا ہوں